28 جون 2026 - 09:13
حصۂ اول | آبنائے ہرمز نے واشنگٹن کا گلا دبا رکھا ہے/  امریکی تسلط پلٹانے کے راستے بند

امریکی مسلسل آبنائے ہرمز کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں، یہاں تک کہ ان کا وزیر خارجہ ـ جو جنگ کے دوران خاموش رہنے والوں میں شامل تھا، ـ اب آسمان و زمین کے قلابے ملا کر دعویٰ کر رہا ہے کہ آبنائے کو جنگ سے پہلے کی حالت میں لوٹنا چاہئے اور ایران کو کسی بھی عنوان سے ـ خواہ وہ محصول ہو یا خدمات کی صورت میں ـ کچھ بھی وصول نہیں نہیں کرنا چاہئے۔ امریکیوں کا یہ رویہ بہترین گواہی ہے اس حقیقت کی کہ آبنائے کی صورتحال کبھی پہلے کی طرح نہیں ہوگی [---]

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی مسلسل آبنائے ہرمز کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں، یہاں تک کہ ان کا وزیر خارجہ ـ جو جنگ کے دوران خاموش رہنے والوں میں شامل تھا، ـ اب آسمان و زمین کے قلابے ملا  کر دعویٰ کر رہا ہے کہ آبنائے کو جنگ سے پہلے کی حالت میں لوٹنا چاہئے اور ایران کو کسی بھی عنوان سے ـ خواہ وہ محصول ہو یا خدمات کی صورت میں ـ کچھ بھی وصول نہیں نہیں کرنا چاہئے۔ امریکیوں کا یہ رویہ بہترین گواہی ہے اس حقیقت کی کہ آبنائے کی صورتحال کبھی پہلے کی طرح نہیں ہوگی بلکہ قطعی طور پر بدل جائے گی، کیونکہ اگر مفاہمت نامے کے مطابق آبنائے کو پرانی طرح ہونا ہوتا تو امریکی جانب اس قدر عجز و آہ نیز اس قدر نعرے اور رجز خوانیاں بے معنی ہوتیں!

سپاہ نیوی تاہم کچھ اور کہتی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ "آبنائے ہرمز سے محفوظ آمد و رفت صرف اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلان کردہ راستوں سے ممکن ہے اور خلاف ورزی کرنے والے جہازوں سے نمٹا جاتا ہے۔"

 رہبر انقلاب کے بین الاقوامی مشیر، ڈاکٹر علی اکبر ولایتی، کچھ زیادہ صراحت کے ساتھ کہتے ہیں: "خطے کے حاشیہ نشین اور سیاسی اطفال سفارشی بیانات سے خوش نہ ہوں؛ انہیں جاننا چاہئے کہ ان کی حیات سلامتی کے دسترخوان سے ریزہ خواری پر منحصر ہے جو ایران نے آبنائے ہرمز کو عطا کی ہے۔ بڑے معادلوں کی ازسرنو ترتیب میں، کناروں میں رہنے والے چھوٹوں کو میز پر نہیں بٹھایا جاتا، بلکہ انہیں حذف کیا جاتا ہے، اور ان کی تزویراتی حیات تہران کی برداشت کی سطح کے مرہون منت ہے۔"

آبنائے ہرمز کے انتظامی ادارے نے بھی اعلان کیا کہ غیرمجاز راستوں اور ایران کی انشورنس کوریج کے بغیر جہازوں کی آمدورفت کے نتائج خود خلاف ورزی کرنے والوں کے ذمے ہیں۔

جو کچھ آپ نے پڑھا، درحقیقت رد عمل ہے عرب ریاستوں اور امریکہ کے مشترکہ بیان پر، جس میں "آبنائے ہرمز کی بحالی کی اہمیت" اور کچھ دوسری فضول باتیں اور مفاہمت نامے اور عالمی قوانین سے بڑھ کر کچھ حریصانہ آرزوؤں پر زور دیا تھا۔

آبنائے ہرمز امریکہ کے گلے پر ایک دباؤ ہے وہ دباؤ جس کا سبب وہ خود ہے اور اس نے خود ایران پر حملہ کرکے اس دباؤ کے اسبا فراہم کئے ہیں۔ امریکیوں نے یہ دباؤ کم کرنے کی بہتیری کوششیں کیں اور شیخیوں اور نعروں دعوؤں کا سہارا لیا؛ لیکن گذشتہ دو دنوں کے واقعات اور ایران کی طرف سے دشمن کو سبق سکھانے کے لئے طاقت کا استعمال، ایسی پیشرفت ہے جو امریکی شیخیوں سے کچھ بالاتر، دوسری حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے۔

حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کی نئی صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس آبی گذرگاہ کے انتظام میں اسلامی جمہوریہ ایران کے فیصلے کو بےاثر کرنے کی امریکی کوشش بدستور لاحاصل رہی ہیں۔ واشنگٹن نے مرکزی حضرت خاتم الانبیاء(ص) ہیڈکوارٹر کی کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے اعلان کے بعد، سیاسی اور فوجی دھمکیوں کے ذریعے اس فیصلے کو روکنے کی کوشش کی، اس کے بعد متبادل راستے ڈیزائن کرکے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی منظور شدہ راستوں سے باہر جہازوں کی آمد و رفت کو ممکن بنانے کی کوشش کرکے ایک منصوبہ چلایا جس کی ناکامی کے واضح آثار اب بآسانی دیکھے جا سکتے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کا  مرکزی حضرت خاتم الانبیاء(ص) ہیڈکوارٹر مورخہ 20 جون 2026ع‍ کو اعلان کیا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے مفاہمت نامے کی پہلی شق پر امریکہ کی بدعہدی، جنوبی لبنان میں صہیونی ریاست کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی اور لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے اس ریاست کے انخلاء سے انکار کے نتیجے میں، آبنائے ہرمز کو جہازرانی کے لئے بند کر دیا جائے گا اور یہ اقدام، فریق مقابل کی بدعہدی کے جواب میں، پہلا قدم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: رحیم زیادعلی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha